New Muslim Sponsorship

New Muslim Sponsorship

نو مسلم اسپانسرشپ

سندھ میں ایسے غریب اور کمزور ہاری آج بھی دور غلامی کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔ یہ وڈیروں کی زمینوں پر جانوروں کی طرح کام کرتے ہیں اور اس مشقت کے بدلے انہیں جو کچھ ملتا ہے اس سے دال روٹی کا حصول بھی مشکل ترہوتا ہے۔ ضروریات پوری نہیں ہوتیں تو وڈیرے انہیں قرض کے جال میں پھنسانا شروع کر دیتے ہیں۔ رفتہ رفتہ قرض کی رقم اس قدر زیادہ ہو جاتی ہے کہ یہ غریب ہاری اسے ادا کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں اور یہیں سے ان کی غلامی کا سفر شروع ہو جا تا ہے۔ وڈیرے  انہیں پابند کر دیتے ہیں کہ جب تک قرض ادا نہیں ہو گا اس وقت تک وہ اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کر سکتے۔ ان کی مشقت اور زیادہ بڑھا دی جاتی ہے اور یہ کولہو کے بیل بن کر رہ جاتے ہیں۔

اُمہ ویلفیئر ٹرسٹ نے اس بات کے ضرورت محسوس کرتے ہوے ایسے افراد کو غلامی سے آزادی دلانے کے لئے 2006 میں ’’ غلامی سے آزادی ‘‘ پروگرام کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کے تحت اُمہ ویلفیئر ٹرسٹ نے ہزاروں لوگوں کو غلامی سے آزادی دلائی اور ان کے لئے باعزت روزگار کا بندوبست بھی کیا۔ ان کے ذمے وڈیروں کا جتینا قرض تھا وہ ادا کیا گیا اوران کے بچوں کے لئے تعلیم کا بندوبست بھی کیا گیا۔ ان افراد میں زیادہ تعداد غیر مسلموں کے تھی جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کیا اور ایسے میں اس پروگرام کا نیا نام ’’ نیو مسلم اسپانسرشپ ‘‘ رکھا گیا۔

الحمدللہ اُمہ ویلفیئر ٹرسٹ اس وقت سندھ کے 220 بچوں کی اس سلسلے میں معاونت کر رہا ہے۔

آیئے! آپ بھی ایک مسلمان بچےکی  2,550 روپے ماہانہ سے اس کو تعلیم دینے میں مدد کر سکتے ہیں ۔